چھ سال میں 65 ہزار بم دھماکے، عراق اجتماعی قبرستان میں تبدیل ہوگیا

    لندن (ویب ڈیسک) عراق میں صدام حسین کی آمریت کے خاتمے اور ملک کو امن و امان اور ترقی و خوشحالی کا گہوارا بنانے کیلئے مسلط کردہ امریکی جنگ کے جو بھیانک نتائج سامنے آئے ہیں اسکے بعد عراق کی تاریخ میں ہونےوالے کشت و خون کے تمام سنگین واقعات بھی معمولی دکھائی دیتے ہیں۔ ایک برطانوی اخبار نے امریکی کٹھ پتلی نوری المالکی کے چھ سالہ دور حکومت میں ہونےوالی تباہی و بربادی پر نظر ڈالتے ہوئے بتایا ہے کہ نوری المالکی کے 6 سالہ تاریک دور میں 65 ہزار بم دھماکوں سے ملک کھنڈر اور اجتماعی قبرستان بن چکا ہے۔ اخبار نے بغداد اور ملک کے دوسرے شہروں کا ایک نقشہ جاری کیا ہے جس میں سرخ نکات کے ذریعے پچھلے 6 سال میں ہونےوالے بم حملوں، خود کش دھماکوں اور دہشتگردی کی دیگر کارروائیوں کی نشاندہی کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق بغداد شہر بدامنی کے اعتبار سے پچھلے 6 سال میں بدترین دور سے گزرا ہے جہاں کوئی محلہ، سڑک، گلی اور مکان ایسا نہیں ہے جو دہشت گردی اور قتل و غارت گری کا نشانہ نہ بنا ہو اور کوئی دراور دیوار ایسی نہیں جس پر انسانی خون کے چھینٹے نہ پڑے ہوں۔
    Share on Google Plus

    About Unknown

    میں پیشے کے لحاظ سے ایک ڈیجیٹل مارکیٹر، ویب ڈیزائنر اور آڈیٹر ہوں. میں نے لوگوں کے ساتھ اپنے تجربات کو لکھنے اور مختلف چیزوں کو دریافت اور اشتراک کرنے کے لئے محبت. میں اپنے ارد گرد ایماندار اور وفادار لوگوں کو پسند.
      Blogger Comment
      Facebook Comment

    0 comments:

    Post a Comment